Question:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
Could you kindly advise if it is permissible in Islam to display or keep animal skulls and horns in a Muslim household?
Jazakallah
——————————————-
Answer:
اَلـجَـــــوَابُ حَــامِـــــداً وَّمُــصَلِّــــياً
Respected Brother
Our response to your query is as follows:
If the animal skull and horns are kept in its original form, then the displaying of it as is will not be considered impermissible. This will not fall under the category of displaying animate objects as these are the original parts of the animal and they were not sculptured or drawn by a human being
AND ALLĀH ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!
Answered by: Ml Ridhwaan Moosa
Checked and approved by: Mufti Yacoob Vally Saheb D.B.
1 الجامع الصغير ص329
ولا بيع جلود الميتة قبل أن تدبغ فإذا دبغت فلا بأس ببيعها والانتفاع بها ولا بأس ببيع عظام الميتة وعصبها وعقبها وصوفها وشعرها وقرنها ووبرها والانتفاع بذلك كله
فتاوی محمودیہ ج29 ص309
شیر کی کھال میں گھاس بھر کر اس کو شیر بنانا
سوال :۔ اس زمانہ میں بڑے گھروں میں شیر کی کھال میں گھاس بھر کر اس کو شیر جیسی شکل بنا دیتے ہیں، اور مکان میں بطور نمائش رکھتے ہیں، یہ درست ہے یا نہیں ؟
الجواب حامد أو مصلياً- گھاس وغیرہ بھر کر اس طرح شیر کی صورت بنانا اس کا رکھنا اس کی نمائش کرنا سب نا درست ہے( 1)۔ فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم
شیر کی کھال کیا تصویر کے حکم میں ہے
سوال : – شکاری لوگ شیر چیتے وغیرہ کا شکار کرنیکے بعد اس کا چمڑہ اس طرح نکالتے ہیں کہ پورا سر اس کی ساتھ رہنے دیتے ہیں، پھر چمڑے کو دباغت کر لیتے ہیں، سر کا اندرونی حصہ بھی کسی طرح صاف کر لیتے ہیں، اور اس چمڑے کو جس کے ساتھ پورا سرمع آنکھ وغیرہ کے ہوتا ہے ، گھر میں رکھتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح حیوان کے سرکو رکھنا جائز ہے یا تصویر کی طرح اس کا رکھنا بھی جائز نہ ہوگا ؟
الجواب حامد أو مصلياً- یہ تصویر کے حکم میں نہیں (2)- فقط واللہ تعالی اعلم
